حدیث نمبر: 7156
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أَيْمَنَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ فَقَالَ: كَيْفَ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ إِمْرَأَتَهُ حَائِضًا؟ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ إِمْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ إِمْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لِيُرَاجِعْهَا)) (عَلَيَّ وَلَمْ يَرَهُ شَيْئًا وَقَالَ فَرَدَّهَا) إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ يُمْسِكْ)) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: 1] قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَسَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقْرَؤُهَا كَذٰلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابوزبیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:عبد الرحمن بن ایمن نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے سوال کیا جا رہا تھا، جبکہ میں سن رہا تھا، انھوں نے کہا: اس آدمی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو حالت ِ حیض میں بیوی کو طلاق دیتا ہے؟ انھوں نے کہا: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عہد ِ نبوی میں اپنی بیوی کو اسی طرح طلاق دی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! عبد اللہ نے اپنی بیوی کو حالت ِ حیض میں طلاق دے دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ رجوع کر لے، پھر جب وہ پاک ہو جائے تو وہ چاہے تو طلاق دے دے اور چاہے تو اپنے پاس رکھ لے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مجھ پر لوٹا دیا اور اس کو کچھ خیال نہ کیا، پھر سیدنا ابن عمر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {یَا أیُّھَا النَّبِیُّ إِذَا طَلَقَّتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ فِیْ قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ} … اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے مجاہد کو سنا کہ وہ اس آیت کو اسی طرح تلاوت کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … طلاق کا سنت طریقہ یہ ہے کہ خاوند اس طہر میں طلاق دے، جس میں اس نے جماع نہ کیا ہو، یا حالت ِ حمل میں دے، پھر عدت گزرنے کا انتظار کرے، ممکن ہو تو عدت کے دوران میں رجوع کر لے، ورنہ پیچھے سے مزید طلاق نہ بھیجے، تاکہ اگر بعد میں اتفاق ہو جائے تو نیا نکاح کر لے۔ مزید طلاق نہ بھیجنے کی ہدایت ان اہل علم کی رائے کی روشنی میں دی گئی ہے، جو طلاق پر طلاق کے قائل ہیں، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک تو طلاق پر طلاق واقع ہی نہیں ہوتی، کیونکہ یہ بے فائدہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7156
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح دون قوله: ولم يرھا شيئا ، أخرجه مسلم: 1471 دون ھذه الزيادة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5524»