الفتح الربانی
كتاب الطلاق— طلاق کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنِ الطَّلَاقِ فِي الْحَيْضِ وَفِي الظُّهْرِ بعد أنْ يُجَامِعَهَا مَالَمْ بَين حَمْلُهَا باب: حالت حیض میں اور طہر میں مجامعت کے بعد حمل کے واضح ہونے سے پہلے تک طلاق دینے کی ممانعت
حدیث نمبر: 7153
عَنْ سَلَامٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا أَوْ حَامِلًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن عمر سے کہو کہ وہ رجوع کرلے اور پھر اس کو اس حالت میں طلاق دے کہ وہ حالتِ طہر میں ہو یا حاملہ ہو۔