الفتح الربانی
كتاب الطلاق— طلاق کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنِ الطَّلَاقِ فِي الْحَيْضِ وَفِي الظُّهْرِ بعد أنْ يُجَامِعَهَا مَالَمْ بَين حَمْلُهَا باب: حالت حیض میں اور طہر میں مجامعت کے بعد حمل کے واضح ہونے سے پہلے تک طلاق دینے کی ممانعت
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَأَلْتُهُ عَنْ امْرَأَتِهِ الَّتِي طَلَّقَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ طَلَّقْتُهَا وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ فَذَكَرَهُ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهُرَتْ طَلَّقَهَا فِي طُهْرِهَا لِلسُّنَّةِ)) قَالَ: فَفَعَلْتُ، قَالَ أَنَسٌ: فَسَأَلْتُهُ هَلْ اعْتَدَدْتَّ بِالَّتِي طَلَّقْتَهَا وَهِيَ حَائِضٌ؟ قَالَ وَمَا لِي لَا أَعْتَدُّ بِهَا إِنْ كُنْتُ عَجَزْتُ وَاسْتَحْمَقْتُ۔ انس بن سیرین سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی اس بیوی کے متعلق سوال کیا، جسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں طلاق دی تھی، انہوں نے کہا: میں نے اس کو حالتِ حیض میں طلاق دی، پھر میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ بات بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کر لے، پھر جب وہ حیض سے پاک ہو جائے تو سنت کے مطابق اسے طہر میں طلاق دے۔ میں نے ایسے ہی کیا، انس بن سیرین کہا: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ تم نے جو طلاق حالت حیض میں دی تھی کیاوہ شمار کی گئی تھی، انھوں نے کہا: بھلا میں اس کو شمار کیوں نہ کرتا، اگر میں عاجز آگیا اور حماقت کا مظاہرہ کر بیٹھا تو (کیا خیال ہے کہ وہ طلاق شمار نہ ہوتی)۔