حدیث نمبر: 7151
عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَأَبَيْتُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ امْرَأَةً كَرِهْتُهَا لَهُ فَأَمَرْتُهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَأَبَى فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا عَبْدَ اللَّهِ! طَلِّقْ امْرَأَتَكَ)) فَطَلَّقْتُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے عقد نکاح میں ایک عورت تھی، مجھے اس سے بہت محبت تھی، لیکن میرے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے، پس انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو طلاق دے دوں،لیکن میں نے انکار کر دیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک بیوی ہے، مجھے وہ ناپسند ہے، میں نے اس سے کہا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، لیکن اس نے انکار کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ سو میں نے اسے طلاق دے دی۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ والدین کا حکم نفس کی خواہشات پر مقدم ہے، جب اُن کا حکم دین کے موافق ہو گا، کیونکہ ظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس خاتون کو قلتِ دین کی وجہ سے ناپسند کرتے ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطلاق / حدیث: 7151
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه الترمذي: 1189، والنسائي: 5/339 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5011 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5011»