الفتح الربانی
كتاب الطلاق— طلاق کا بیان
بَابٌ فِي جَوَازِهِ لِلْحَاجَةِ وَكَرَاهَتِهِ مَعَ عَدْمِهَا وَطَاعَةِ الْوَالِدِ فِيهِ باب: ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
حدیث نمبر: 7150
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا وَلَا تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا وَلْتَنْكِحْ فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے، کسی خاتون سے اس کی پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے، کوئی عوررت اپنی بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے، تاکہ وہ اس کے پیالے میں جو کچھ ہے، اس کو انڈیل دے، اس کو چاہیے کہ وہ نکاح کر لے، کیونکہ اس کو وہ کچھ مل جائے گا، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے مقدر میں لکھا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام نے مرد کو چار شادیوں کا حق دیا ہے، اگر کوئی آدمی دوسری شادی کرنا چاہے تو اس خاتون کو یہ شرط نہیں لگانی چاہیے کہ وہ پہلی بیوی کو طلاق دے دے، اس کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی پر بھروسہ کر کے نکاح کرے، اللہ تعالی حالات کو سنوارنے پر قادر ہے۔