الفتح الربانی
كتاب الطلاق— طلاق کا بیان
بَابٌ فِي جَوَازِهِ لِلْحَاجَةِ وَكَرَاهَتِهِ مَعَ عَدْمِهَا وَطَاعَةِ الْوَالِدِ فِيهِ باب: ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
حدیث نمبر: 7148
عَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي امْرَأَةً فَذَكَرَ مِنْ طُولِ لِسَانِهَا وَإِيذَائِهَا فَقَالَ طَلِّقْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا ذَاتُ صُبْحَةٍ وَوَلَدٍ قَالَ فَأَمْسِكْهَا وَأْمُرْهَا فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلُ وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أَمَتَكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، پھر انھوں نے اس کی زبان درازی اور تکلیف دینے کی شکایت کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو طلاق دے دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ پرانی رفیقہ حیات ہے اور اس سے میری اولاد بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کو اپنے پاس رکھو، البتہ تلقین کرتے رہو، اگر اس میں کوئی خیر و بھلائی ہوئی تو وہ اسے قبول کرے گی، لیکن تم نے اپنی بیوی کو اس طرح نہیں مارنا جس طرح لونڈی کو مارا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہر عورت میں خوبیوں کے ساتھ ساتھ بعض نقائص بھی پائے جاتے ہیں، اس بارے میں شرعی اصول یہ ہے کہ بیویوں کے مثبت پہلو کا زیادہ خیال رکھا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی اصلاح بھی کی جائے۔