الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي النَّضْحِ بَعْدَ الْوُضُوءِ باب: وضو کے بعد شرمگاہ پر چھینٹے مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 714
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَهُ الْوُضُوءَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وَضُوئِهِ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ بِهَا نَحْوَ الْفَرْجِ، قَالَ: فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرُشُّ بَعْدَ وَضُوئِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسامہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ جبریلؑ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کی تعلیم دی اور جب وہ وضو سے فارغ ہوئے تو ایک چلّو پانی کا لے کر اس کو شرمگاہ پر چھڑک دیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی وضو کے بعد اس طرح پانی چھڑکا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کے مزید شواہد بھی موجود ہیں، حدیث نمبر (۵۴۸)میں بھی یہ مسئلہ گزر چکا ہے، ان احادیث کا خلاصہ اور تقاضا یہ ہے کہ وضو کے بعد پانی کا ایک چلو شرمگاہ پر چھڑک دیا جائے۔