الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ وَثَلَاثًا وَكَرَاهَةِ الزِّيَادَةِ باب: اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 710
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْوُضُوءِ فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، قَالَ: ((هَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، وہ وضو کے بارے میں سوال کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے تین تین دفعہ وضو کر کے دکھایا اور فرمایا: یہ وضو ہے، جس نے اس سے زیادہ مرتبہ دھویا، پس تحقیق اس نے برا کیا، زیادتی کی اور ظلم کیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع کی تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اعضائے وضو کو ایک ایک یا دو دو یا تین تین بار دھویا جا سکتا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ایک ہی وضو میں بعض اعضاء کو ایک بار، بعض کو دو بار اور بعض کو تین بار دھو لیا جائے، تین دفعہ سے آگے بڑھنا درست نہیں ہے۔