الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
فِي وَفَادَةِ رِجَالٍ مِنَ الْعَرَبِ لَمْ يُسَمَّوا باب: عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: ((أَنْ يُسْلِمَ قَلْبُكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ)) قَالَ: فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْإِيمَانُ)) (وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ)، قَالَ: وَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ)) (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: وَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ((الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ))، قَالَ: فَأَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْهِجْرَةُ)) قَالَ: وَمَا الْهِجْرَةُ؟ قَالَ: ((تَهْجُرُ السُّوءَ)) قَالَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْجِهَادُ)) قَالَ: وَمَا الْجِهَادُ؟ قَالَ: ((أَنْ تُقَاتِلَ الْكُفَّارَ إِذَا لَقِيتَهُمْ)) قَالَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ)) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((ثُمَّ عَمَلَانِ هُمَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِهِمَا، حَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ أَوْ عُمْرَةٌ))سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تیرا دل اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو جائے اور دوسرے مسلمان تیری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔“ اس نے کہا: ”کون سا اسلام افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان۔“ ایک روایت میں ہے: ”اچھا اخلاق۔“ اس نے کہا: ”ایمان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، کتابوں پر، رسولوں پر اور موت کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان لائے۔“ ایک روایت میں ہے: اس نے کہا: ”ایمان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر و سماحت۔“ اس نے کہا: ”افضل ایمان کون سا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت۔“ اس نے کہا: ”ہجرت کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برائی کو ترک کر دینا۔“ اس نے کہا: ”کون سی ہجرت افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد۔“ اس نے کہا: ”جہاد کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کافروں سے مقابلہ ہو تو ان سے قتال کرنا۔“ اس نے کہا: ”کون سا جہاد افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور خود اس کا خون بہا دیا جائے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر دو عمل ہیں، وہ افضل ترین ہیں اور (ان کو کرنے والا سب سے زیادہ افضل ہے) الا یہ کہ کوئی آدمی ان ہی دو پر عمل کرے، حج مبرور یا عمرہ۔“