الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ وَثَلَاثًا وَكَرَاهَةِ الزِّيَادَةِ باب: اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 707
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ وَاحِدَةً فَتِلْكَ وَظِيفَةُ الْوُضُوءِ الَّتِي لَا بُدَّ مِنْهَا، وَمَنْ تَوَضَّأَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُ كِفْلَانِ، وَمَنْ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا فَذَلِكَ وُضُوئِي وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اعضاء کو ایک ایک دفعہ دھو کر وضو کیا، تو وضو کی کم از کم مقدار ہے، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے، جس نے اعضا کو دو دو دفعہ دھویا، اس کے لیے دو حصے اجر ہو گا اور جس نے تین تین بار دھویا تو ایسا وضو میرا ہے اور مجھ سے پہلے والے انبیاء کا ہے۔