حدیث نمبر: 70
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُنَجِّينِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: ((بَخٍ بَخٍ، لَئِنْ كُنْتَ قَصَّرْتَ فِي الْخُطْبَةِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ، اتَّقِ اللَّهَ، لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ، خَلِّ عَنْ طَرِيقِ الرِّكَابِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابن منتفق رحمہ اللہ کی ایک اور روایت میں اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ ایسے عمل پر میری رہنمائی فرمائیں کہ وہ مجھے جنت میں داخل کر دے اور آگ سے دور کر دے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واہ، واہ، تو نے بات تو بڑی مختصر کی ہے، لیکن سوال بہت بڑا کر دیا ہے، (بہرحال اب اس کا جواب یہ ہے کہ) تو اللہ تعالیٰ سے ڈر، اس کے ساتھ شرک نہ کر، نماز قائم کر، زکوٰۃ ادا کر، بیت اللہ کا حج کر اور رمضان کے روزے رکھ، اب سواری کے راستے سے پرے ہٹ جا۔“

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کے لیے جن امورِ اسلام کا ذکر کیا ہے، وہ دوسری احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 70
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15978»