حدیث نمبر: 7
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ النَّاسِ عَلَى اللَّهِ وَمَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ؟» قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «حَقُّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، فَإِذَا فَعَلُوا ذَالِكَ فَحَقٌّ عَلَيْهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ»
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر اور اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر کیا حق ہے؟“ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ پر ان کا حق یہ ہو گا کہ وہ ان کو عذاب نہ دے۔“

وضاحت:
فوائد: … اِن احادیث ِ مبارکہ سے توحید کو اختیار کرنے اور شرک سے بچنے کی فضیلت اور شرک کو اختیار کرنے اور توحید سے اعراض کرنے کی مذمت کا اندازہ ہو جانا چاہیے، اس موضوع سے متعلقہ تمام آیات و احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ شرک جیسے گناہ کی بخشش ناممکن ہے، مشرک کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیا جائے گا، رہا مسئلہ توحید پرست کا تو اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہوں کو معاف نہ کیا تو ان کے مطابق اس کو سزا دی جائے گی اور پھراس کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ بہرحال جن احادیث میں توحید کی فضیلت بیان کی گئی ہے، مؤحِّد کو اللہ تعالیٰ پر حسن ظن رکھتے ہوئے اپنے آپ کو ان کا مصداق سمجھنا چاہیے، لیکن اس حسن ظن کا یہ مفہوم نہیں کہ بندہ نیکیاں کرنا چھوڑ دے یا برائیوں سے باز رہنے کو ترک کر دے، دیکھیں حدیث نمبر (۵،۶)کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرے سے فضیلت والی ایسی احادیث بیان کرنے سے منع کر دیا، جن کی وجہ سے عام لوگوں میں عمل ترک کرنے کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه الحاكم: 1/ 517، والبزار: 3089 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8085 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»