الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي اللُّمَعَةِ وَالْمُوَالَاةِ وَالْحَثِّ عَلَى إِحْسَانِ الْوُضُوءِ باب: وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے¤اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 697
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: ((إِنَّمَا لَبَّسَ عَلَيْنَا الشَّيْطَانُ الْقِرَاءَةَ مِنْ أَجْلِ أَقْوَامٍ يَأْتُونَ الصَّلَاةَ بِغَيْرِ وَضُوءٍ، فَإِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَأَحْسِنُوا الْوُضُوءَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو روح کلاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان اس وجہ سے ہم پر قراءت کو خلط ملط کر دیتا ہے کہ بعض لوگ بغیر وضو کے نماز پڑھنے آ جاتے ہیں، پس جب تم نماز کے لیے آؤ تو اچھی طرح وضو کر کے آیا کرو۔“
وضاحت:
فوائد: … چونکہ عہد ِ نبوی میں پانی کی بہت کمی تھی، اس لیے ایسی صورتحال پیدا ہو جانا ممکن تھا، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعض مقتدیوں کی اس سستی سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، اس سے ان لوگوں کو اپنی زندگیوں کا جائزہ لے لینا چاہیے، جن کے آگے پیچھے برے لوگ بسیرا کرتے ہیں اور وہ ہر وقت گپوں اور اول فول بکنے میں مصروف رہتے ہیں، اگر کسی کا مقصد ایمان کی سلامتی ہو تو اس کو چاہیے کہ بدوں سے دور ہو جائے اور نیکوں کے قریب ہو جائے۔