الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
الْفَصْلُ الثَّانِي فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ وَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ باب: وضو کو مکمل طور پر کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان ایڑھیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے کا بیان
حدیث نمبر: 690
عَنْ سَعِيدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي رِبْعِيَّةُ بِنْتُ عَيَاضٍ الْكِلَابِيَّةُ عَنْ جَدِّهَا عُبَيْدَةَ بْنِ عَمْرٍو الْكِلَابِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَأَسْبَغَ الطَّهُورَ، وَكَانَتْ هِيَ إِذَا تَوَضَّأَتْ أَسْبَغَتِ الطَّهُورَ حَتَّى تَرْفَعَ الْخِمَارَ فَتَمْسَحَ رَأْسَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبیدہ بن عمرو کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل طور پر وضو کرتے تھے۔ اسی بنا پر جب ربعیہ وضو کرتیں تو وہ ہر عضو کو اچھی طرح دھو دھو کر وضو کرتی تھیں، یہاں تک کہ دوپٹہ اٹھا کر سر کا مسح کرتی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں وضو میں خشک رہ جانے والی ایڑھیاں مراد ہیں، اگر کسی اور عضو کا کوئی حصہ خشک رہ گیا تو اس کا بھی یہی حکم ہو گا، جیسے کہنیاں اور پاؤں کے تلوے وغیرہ۔ ان احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ احتیاط اور اہتمام کے ساتھ وضو کیا جائے، لیکن تین بار سے زیادہ اعضا نہ دھوئے جائیں اور اس سلسلے میں شیطانی وسوسوں سے مکمل اجتناب کیا جائے۔