حدیث نمبر: 69
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى الْكُوفَةِ لِأَجْلِبَ بِغَالًا، قَالَ: فَأَتَيْتُ السُّوقَ وَلَمْ تَقُمْ، قَالَ: قُلْتُ لِصَاحِبٍ لِي: لَوْ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ، وَمَوْضِعُهُ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِ التَّمْرِ، فَإِذَا فِيهِ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْمُنْتَفِقِ وَهُوَ يَقُولُ: وَصَفَ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَطَلَبْتُهُ بِمِنًى، فَقِيلَ لِي: هُوَ بِعَرَفَاتٍ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَزَاحَمْتُ عَلَيْهِ، فَقِيلَ لِي: إِلَيْكَ عَنْ طَرِيقِ رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَ: «دَعُوا الرَّجُلَ أَرِبَ مَا لَهُ» قَالَ: فَرَاحَمْتُ عَلَيْهِ حَتَّى خَلَصْتُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ أَوْ قَالَ زِمَامِهَا، هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَنْتَانِ أَسْأَلُكَ عَنْهُمَا، مَا يُنَجِّينِي مِنَ النَّارِ وَمَا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ نَكَسَ رَأْسَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ قَالَ: «لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ لَقَدْ أَعْظَمْتَ وَأَطْوَلْتَ، فَأَعْقِلْ عَنِّي إِذًا، أَعْبُدِ اللَّهَ، لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَهُمْ رَمَضَانَ وَمَا تُحِبُّ أَنْ يَفْعَلَهُ بِكَ النَّاسُ فَافْعَلْ بِهِمْ، وَمَا تَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ إِلَيْكَ النَّاسُ فَذَرِ النَّاسَ مِنْهُ» ثُمَّ قَالَ: «خَلِّ سَبِيلَ الرَّاحِلَةِ» (مسند أحمد:27694 )
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبداللہ یشکری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں خچر لانے کے لیے کوفہ گیا، جب میں بازار پہنچا تو دیکھا کہ وہ ابھی تک بند تھا، میں نے اپنے ساتھی سے کہا: ”اگر ہم مسجد میں چلے جائیں (تو بہتر ہو گا)،“ جبکہ مسجد کی جگہ کھجور والوں کے درمیان تھی، ہم نے دیکھا کہ مسجد میں قیس قبیلے کا ایک آدمی تھا، لوگ اسے ابن منتفق کہتے تھے، وہ یہ بیان کر رہا تھا: ”ایک آدمی نے میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات بیان کیں، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں تلاش کیا، لیکن کسی نے مجھے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس وقت عرفات میں ہوں گے،“ میں وہاں تک پہنچ گیا، لیکن جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا چاہا تو مجھے کہا گیا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے پرے ہٹ جا،“ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بندے کو بلاؤ، اس کے اعضاء ناکارہ ہو جائے، کیا ہے اس کو۔“ چنانچہ میں دھکیلتے ہوئے آگے بڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑ لی اور کہا: ”دو چیزوں کے بارے میں میں سوال کروں گا، کون سا عمل مجھے آگ سے نجات دلائے گا اور کون سا عمل مجھے جنت میں داخل کرے گا؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور پھر اپنے سر کو جھکا لیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے کے ساتھ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تو نے سوال تو بڑا مختصر کیا ہے، لیکن حقیقت میں بڑی عظیم اور لمبی بات کر دی ہے، بہرحال اب میری بات کو سمجھ، تو نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا، فرض نماز ادا کرنی ہے، فرض زکوٰۃ دینی ہے، رمضان کے روزے رکھنے ہیں اور لوگوں کی طرف سے جو چیز تو اپنے حق میں پسند کرتا ہے، ان کے حق میں بھی اسی چیز کا انتخاب کر اور لوگوں کی طرف سے جس چیز کو تو ناپسند کرتا ہے، تو لوگوں کو بھی اس چیز سے محفوظ رکھ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب سواری کے راستے سے ہٹ جا۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 69
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الله اليشكري ابن ابي عقيل ، ذكره الحافظ ابن حجر في التعجيل وقال: روي عنه ابنه المغيرة، ليس بالمشھور۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 5478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27153 ترقیم بيت الأفكار الدولية:27694»