حدیث نمبر: 6820
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا كَاهِنَةً فَقَالُوا لَهَا: أَخْبِرِينَا بِأَقْرَبِنَا شَبَهًا بِصَاحِبِ هَذَا الْمَقَامِ، فَقَالَتْ: إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السَّهْلَةِ ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ فَجَرُّوا ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: هَذَا أَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِهِ، فَمَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ بُعِثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریشی ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور کہا: ہمیں یہ بتا دے کہ ہم میں سے اس مقام نبوت کے زیادہ لائق اور حقدار کون ہے؟ اس نے کہا: اگر تم اس نرم زمین پر چادرتان کر اس کے اوپر چلو گے تو میں تمہیں بتاؤں گی، انہوں نے چادر تان لی، پھر لوگ اس پر چلے اوراس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار و نشانات دیکھے اور کہا:یہ تم میں سب سے زیادہ مقام نبوت کے لائق ہے،ابھی تک اس واقعہ کو بیس سال یا اس کے قریب قریب ہی گزرے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کر دیا گیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السحر والكهانة والتنجيم / حدیث: 6820
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، فان رواية سماك عن عكرمة فيھا اضطراب، أخرجه ابن ماجه: 2350، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3072»