الفتح الربانی
أبواب السحر والكهانة والتنجيم— جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب
بَاب مَا جَاءَ فِي حُلْوَانِ الْكَاهِنِ وَأَخْبَارٍ عَنِ الْكُهَانِ باب: کاہن کی شیرینی اور کاہنوں کی بعض باتوں کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا كَاهِنَةً فَقَالُوا لَهَا: أَخْبِرِينَا بِأَقْرَبِنَا شَبَهًا بِصَاحِبِ هَذَا الْمَقَامِ، فَقَالَتْ: إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السَّهْلَةِ ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ فَجَرُّوا ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: هَذَا أَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِهِ، فَمَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ بُعِثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریشی ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور کہا: ہمیں یہ بتا دے کہ ہم میں سے اس مقام نبوت کے زیادہ لائق اور حقدار کون ہے؟ اس نے کہا: اگر تم اس نرم زمین پر چادرتان کر اس کے اوپر چلو گے تو میں تمہیں بتاؤں گی، انہوں نے چادر تان لی، پھر لوگ اس پر چلے اوراس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار و نشانات دیکھے اور کہا:یہ تم میں سب سے زیادہ مقام نبوت کے لائق ہے،ابھی تک اس واقعہ کو بیس سال یا اس کے قریب قریب ہی گزرے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کر دیا گیا۔