حدیث نمبر: 6817
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ أَشْيَاءَ كُنَّا نَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، كُنَّا نَتَطَيَّرُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((ذَلِكَ شَيْءٌ تَجِدُهُ فِي نَفْسِكَ فَلَا يَصُدَّنَّكَ)). قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ، قَالَ: ((فَلَا تَأْتِ الْكُهَّانَ)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: ان امور کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو ہم دورِ جاہلیت میں کرتے تھے، مثلا ہم بد شگونی لیتے تھے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کو تو اپنے دل میں محسوس تو کرے گا، لیکن یہ تجھے تیرے کام سے نہ روکنے پائے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کاہنوں کے پاس بھی جاتے تھے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاہنوں کے پاس نہیں جانا۔

وضاحت:
فوائد: … کسی چیز کی کراہت انسان کے دل میں آ سکتی ہے، لیکن اس سے اس کے عزم میں کوئی فرق نہیں آنا چاہیے، مثلا ایک آدمی نے صبح صبح سفر کرنے کا ارادہ کیا، لیکن اسی وقت اس کے سامنے اُلّو یا کوّا آ گیا،یا اس کا کوئی نقصان ہو گیا، تو اس سے اس کو یہ خیال تو آ سکتا ہے کہ اس کو سفر نہیں کرنا چاہیے، لیکن عملی طور پر اس کو اس خیال پر عمل نہ کرتے ہوئے اللہ تعالی پر توکل کر کے سفر کو جاری رکھنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السحر والكهانة والتنجيم / حدیث: 6817
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 537 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15748»