حدیث نمبر: 6813
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الْجِنُّ يَسْمَعُونَ الْوَحْيَ فَيَسْتَمِعُونَ الْكَلِمَةَ فَيَزِيدُونَ فِيهَا عَشْرًا فَيَكُونَ مَا سَمِعُوا حَقًّا وَمَا زَادُوهُ بَاطِلًا وَكَانَتِ النُّجُومُ لَا يُرْمَى بِهَا قَبْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَدُهُمْ لَا يَأْتِي مَقْعَدَهُ إِلَّا رُمِيَ بِشِهَابٍ يُحْرِقُ مَا أَصَابَ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى إِبْلِيسَ فَقَالَ: مَا هَذَا إِلَّا مِنْ أَمْرٍ قَدْ حَدَثَ، فَبَثَّ جُنُودَهُ، فَإِذَا هُمْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَيْنَ جَبَلَيْ نَخْلَةَ، فَأَتَوْهُ، فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ: هَذَا الْحَدَثُ الَّذِي حَدَثَ فِي الْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جن وحی سن لیا کرتے تھے اور ایک بات سن کر اس کے ساتھ دس باتوں کا ضافہ کرتے تھے، جو کچھ سنا ہوتا تھا وہ سچ ہوتا تھا اور جو اپنی طرف سے اضافہ کرتے تھے، وہ باطل ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے شہاب ثاقب نہیں گرتے تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو جنوں میں سے جو بھی اپنے ٹھکانے پر آتا تھا،شہاب ثاقب جس کو لگتا اسے جلا دیتا تھا، انہوں نے ابلیس سے اس کی شکایت کی، اس نے کہا: ضرورکوئی نئی صورت پیدا ہو گئی ہے، تب ہی ایسے ہو رہا ہے، اس نے تحقیق کے لیے اپنے لشکر پھیلا دئیے، اچانک انہوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو پہاڑوں کے درمیان نخلہ وادی میں نماز ادا کر رہے ہیں، وہ ابلیس کے پاس آئے اور اسے اس کی اطلاع دی، اس نے کہا: یہی وہ واقعہ ہے جو زمین میں نیا رونما ہوا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السحر والكهانة والتنجيم / حدیث: 6813
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3324 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2482»