حدیث نمبر: 681
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (يَصِفُ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى الْخُفَّيْنِ (الْحَدِيثُ بِتَمَامِهِ تَقَدَّمَ فِي بَابِ صِفَةِ الْوُضُوءِ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ دھویا، اپنے بازو دھوئے، پیشانی اور پگڑی پر اور موزوں پر مسح کیا۔ پوری حدیث باب صفت الوضو میں گزر چکی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … درج بالا حدیث میں سر کے مسح کے دو طریقے بیان کیے گئے ہیں، ایک مکمل پگڑی پراور دوسرا سرکے اگلے حصے اور پگڑی پر، پگڑی کے بغیر سر کا مسح کرنا تو واضح ہے۔ امام ابو حنیفہ سمیت بعض ائمہ کی رائے یہ ہے کہ صرف پگڑی پر مسح کرنا جائز نہیں ہے، لیکن درج بالا اور اس موضوع سے متعلقہ دیگر احادیث سے صرف پگڑی پر مسح کرنا روزے روشن کی طرح ثابت ہو رہا ہے۔ موزوں پر مسح کرنے سے متعلقہ احکام یہ ہیں: وضو کر کے موزے پہنے جائیں، عام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مقیم کو مکمل ایک دن یعنی چوبیس گھنٹے اور مسافر کو تین دنوں تک مسح کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ پیشاب، پائخانہ، نیند اور دوسرے نواقض وضو سے جب وضو ٹوٹ جاتا ہے تو مسح کی مدت پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ موزوں کو اتارنا پڑتا ہے، لیکن جب جنابت کا غسل فرض ہو جائے تو موزے اتار کر وضو اور غسل کرنا ضروری ہے۔ مسح کرتے وقت صرف پاؤں کے ظاہری حصے پر ہاتھ پھیر اجائے۔ جرابوں کا بھی یہی حکم ہے۔ موزوں کے مخصوص اور مزید احکام حدیث نمبر (۷۲۵) سے شروع ہوں گے۔ اب ہم جرابوں پر مسح کرنے کے دلائل ذکر کرتے ہیں: (۱) … سیدنا ثوبان ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جماعت کو باہر بھیجا، انہیں سفر میں سردی لگی، جب وہ واپس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سردی کی شکایت کی تو فَأَمَرَھُمْ أَنْ یَمْسَحُوْا عَلٰی الْعَصَائِبِ واَلتَّسَاخِیْنِ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ پگڑیوں اور تَسَاخِیْن پر مسح کر لیا کریں۔ (احمد: ۵/ ۲۷۷، ابوداود: ۱۴۶) تساخین کے معانی ہیں: گرمی پہنچانے والی چیز، وہ چمڑے کا موزہ ہو یا سوتی یا اونی جرابیں۔ امام ابن ارسلانؓ نے کہا: اصل ذالک کُلُّ مَا یُسْخَنُ بِہِ الْقَدَمُ مِنْ خُفٍّ وَجَوْرَبٍ وَنَحْوِھِمَا۔ … تساخین ہر اس (۲) … سیدنا بلال ؓ کہتے ہیں: کَانَ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَمْسَحُ عَلٰی الْخُفَّیْنِ وَالْجَوْرَبَیْنِ۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موزوں اور جرابوں پر مسح کیا کرتے تھے۔ (معجم کبیر للطبرانی: ۱/ ۳۵۰) اس کی سند یزید بن ابی زیاد کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کے متعدد شواہد موجود ہیں۔
(۳) … سیدنا ابو موسی اشعری ؓ بیان کرتے ہیں: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور جرابوں اور جوتیوں پر مسح کیا۔ (ابن ماجہ: ۵۶۰، بیہقی: ۱/ ۲۸۵) اس حدیث کی سند میں انقطاع ہے اور عیسی بن سنان ضعیف ہے، لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔
(۴) … سیدنا ابو موسی اشعری ؓ ہی بیان کرتے ہیں: اَتَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بَوَضُوئٍ فَمَسَحَ عَلٰی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ وَالْعِمَامَۃِ۔ … میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جرابوں اور جوتیوں اور پگڑی پر مسح کیا۔ (معجم اوسط للطبرانی: ۲/ ۶۶)
(۵) … سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں: تَوَضَّأَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَمَسَحَ عَلٰی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور جرابوں اور جوتیوں پر مسح کیا۔ (ترمذی: ۹۹، ابوداود: ۱۵۹) اس کی سند میں سفیان ثور ی مدلس ہے، لیکن دوسرے شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے۔ البتہ ابن ترکمانی حنفی (متوفی: ۸۴۵ھ) کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھیں: الجوہر النقی: ۱/ ۲۸۴) کعب بن عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ سیدنا علی ؓ نے پیشاب کیا، پھر اپنی جرابوں اور جوتیوں پر مسح کیا۔ (الاوسط لابن المنذر: ۱/ ۴۶۲، المحلی لابن حزم: ۲/۸۴) سیدنا عمربن خطاب ؓ نے جوتیوں کے تسموں سمیت جرابوں پر مسح کیا۔ (تھذیب السنن لابن القیم:۱/۲۷۵) امام ابوداود رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا براء بن عازب سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابو امامہ، سیدنا سہل بن سعد اور سیدنا عمرو بن حریث جرابوںپر مسح کرتے تھے، اور سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی یہی عمل مروی ہے۔ (ابوداؤد) جرابوں پر مسح کے بارے میں صحابہ کا اجماع و اتفاق ہے، دیکھیں: (المغنی لابن قدامہ: ۱/ ۱۸۱، الاوسط لابن المنذر: ۱/ ۴۶۴، المحلی لابن حزم: ۲/ ۸۷) امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: میں نے صالح بن محمد ترمذی رحمتہ اللہ علیہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابو مقاتل سمرقندی سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں حاضر ہوا، وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، انھوں نے پانی منگوایا اور وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا اور کہا: میں نے آج ایسا کام کیا ہے جو پہلے نہ کرتا تھا، میں نے غیر منعّل جرابوں پر مسح کیا ہے۔ (جامع ترمذی: ۹۹) تفصیل کے لیے دیکھیں: جامع ترمذی از علامہ احمد محمد شاکر: ۱/ ۱۶۷) غیر منعّل جرابوں سے مراد وہ جرابیں ہیں، جن پر جوتا پہنا ہوا نہ ہو۔ فقہ حنفی میں قیاس پر بہت زور دیا جاتا ہے، اس مسئلہ میں قیاس کا یہی تقاضا تھا کہ جرابوں پر مسح کرنے کے جواز کو تسلیم کیا جاتا، کیونکہ موزوں اور جرابوں کی علت ایک ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 681
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 388، 2918، ومسلم: 274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18165 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18347»