حدیث نمبر: 6809
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ وَقَاطِعُ رَحِمٍ وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ نَهْرِ الْغُوطَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے:شراب نوشی پر ہمیشگی اختیار کرنے والا،قطع رحمی کرنیوالااور جادو کی تصدیق کرنے والا اور جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ شراب نوشی پر ہمیشگی کرتا ہو اس کو تو اللہ تعالیٰ غوطہ کی نہر سے پلائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: جادو کا عمل حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اس بات پر مسلمانوں کا اجماع و اتفاق ہے، بسا اوقات یہ کفر ہوتا ہے اور بعض اوقات معصیت، اگر اس میں کہا جانے والا قول یا کیا جانے والا فعل کفر ہو تو جادو گر کافر ہو جائے گا اور اگر وہ عمل کفریہ نہ ہو تو وہ فاسق اور نافرمان ٹھہرے گا، بہرحال اس کی تعلیم دینا اور اس کی تعلیم حاصل کرنا دونوں حرام ہیں۔
حدیث نمبر (۶۸۰۹) یہاں اختصار کے ساتھ روایت کی گئی ہے، مکمل روایت ’’کتاب الاشربۃ‘‘ میں آئے گی، اس میں غوطہ کی نہر کی وضاحت کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السحر والكهانة والتنجيم / حدیث: 6809
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابي حريز، وقوله منه: ’’ثلاثة لا يدخلون الجنة: مدمن خمر، وقاطع رحم، ومصدق بالسحر‘‘ حسن لغيره بشاهده من حديث ابي سعيد الخدريB، أخرجه ابن حبان: 5346، وابويعلي: 7248، وابن حبان: 6137، والحاكم: 4/ 146 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19798»