الفتح الربانی
أبواب السحر والكهانة والتنجيم— جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب
بَابُ مَا جاء في ثبوتِ السحر وتأثيره بإرَادَةِ اللَّهِ تعالى وَوَعِيدِ مَنْ صَدَّقَهُ بِغَيْرِ ذَالِك باب: اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ يَرَى أَنَّهُ يَأْتِي وَلَا يَأْتِي فَأَتَاهُ مَلَكَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ مَا بَالُهُ قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ قَالَ فِيمَ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ فِي جُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ تَحْتَ رَاعُوفَةٍ فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمِهِ فَقَالَ أَيْ عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فَأَتَى الْبِئْرَ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ فَقَالَ هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا وَاللَّهِ كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ وَكَأَنَّ رُءُوسَ نَخْلِهَا رُءُوسَ الشَّيَاطِينِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَوْ أَنَّكَ كَأَنَّهَا تَعْنِي أَنْ يَتَنَشَّرَ قَالَ أَمَّا وَاللَّهِ قَدْ عَافَانِي اللَّهُ وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھ ماہ تک اسی حالت میں رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام کیا ہے، لیکن کیا نہیں ہوتا تھا، پس دو فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے پاس اور دوسرا پاؤں کے پاس بیٹھ گیا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا: آپ سحر زدہ ہیں، اس نے کہا: کس نے جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے۔ اس نے کہا: کس چیز میں کیا ہے؟ اس نے کہا: کنگھی میں اور کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں کیا ہے اور یہ عمل ذروان کنویں میں پتھر کے نیچے نر کھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند سے بیدار ہو گئے اور فرمایا: اے عائشہ!کیا تم دیکھتی نہیں ہو کہ اللہ تعالی نے میری دعا قبول کر لی ہے، پھر آپ کنوئیں کے پاس آئے اور حکم دیا، پس اس عمل کو نکالا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی وہ کنواں ہے جو مجھے دکھایا گیا ،اللہ کی قسم! اس کا پانی اس طرح لگ رہا تھا، جیسا کہ اس میں مہندی بھگوئی ہوئی ہو اور اس کے کھجور کے درختوں کے سرے شیطانوں کے سروں کی مانند تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر آپ اس سے دم کروا لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اور میں نہیں چاہتا یہ شرّ لوگوں پر پھیل جائے۔