الفتح الربانی
أبواب تحريم الخمر وحد شاربها— شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُحَارِبِينَ وَقُطَاعِ الطَّرِيْقِ باب: محاربین اور راستوں کو غیر محفوظ کر دینے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 6802
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَأَلْقَاهُمْ بِالْحَرَّةِ قَالَ أَنَسٌ قَدْ كُنْتُ أَرَى أَحَدَهُمْ يَكْدِمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا قَالَ قَتَادَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ إِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: آپ نے مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلاخیں پھیریں اور انہیں حرّہ زمین میں پھینک دیا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک فرد کو دیکھا کہ وہ اپنے منہ سے زمین کو کاٹتا تھا ، پھر وہ سب اسی حالت میں مرگئے۔محمد بن سیرین نے کہا: یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ لوگ محاربین تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: { اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَیُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗوَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْی’‘ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَاب’‘ عَظِیْم’‘} (المائدہ: ۳۳) ’’جو لوگ اللہ تعالی اوراس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیئے جائیںیا سولی چڑھا دیئے جائیںیا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں،یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے
لیے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘
سیدنا ابن عمر d نے کہا: یہ آیت عرنیین کے بارے میں نازل ہوئی۔ (ابوداود: ۴۳۶۹، نسائی: ۷/ ۱۰۰) مذکورہ بالا احادیث میں ان ہی عرینہ اور عکل قبیلے کے افراد کا ذکر ہے، لیکنیہ آیت ان لوگوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ اس قسم کے جرائم کرنے والوں کے لیے عام حکم رکھتی ہے۔
جناب ابو قلابہ نے کہا: ھٰؤُلَائِ قَوْمٌ سَرَقُوْا وَقَتَلُوا وَکَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِھِمْ وَحَارَبُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ۔ … انلوگوںنےچوری کی، قتل کیا، ایمان کے بعد پھر سے کفر کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ کیا۔
(صحیح بخاری: ۶۸۰۲، ۶۸۰۵)
اس بحث سے ثابت ہوا کہ یہ لوگ محارِب تھے اور ان کو محاربہ کی سزا دی گئی۔
امام محمد بن سیرین کے قول کا مطلب یہ ہے کہ دوسری حدود کے نزول سے قبل محاربہ کا حکم نازل ہوا تھا۔
لیے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘
سیدنا ابن عمر d نے کہا: یہ آیت عرنیین کے بارے میں نازل ہوئی۔ (ابوداود: ۴۳۶۹، نسائی: ۷/ ۱۰۰) مذکورہ بالا احادیث میں ان ہی عرینہ اور عکل قبیلے کے افراد کا ذکر ہے، لیکنیہ آیت ان لوگوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ اس قسم کے جرائم کرنے والوں کے لیے عام حکم رکھتی ہے۔
جناب ابو قلابہ نے کہا: ھٰؤُلَائِ قَوْمٌ سَرَقُوْا وَقَتَلُوا وَکَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِھِمْ وَحَارَبُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ۔ … انلوگوںنےچوری کی، قتل کیا، ایمان کے بعد پھر سے کفر کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ کیا۔
(صحیح بخاری: ۶۸۰۲، ۶۸۰۵)
اس بحث سے ثابت ہوا کہ یہ لوگ محارِب تھے اور ان کو محاربہ کی سزا دی گئی۔
امام محمد بن سیرین کے قول کا مطلب یہ ہے کہ دوسری حدود کے نزول سے قبل محاربہ کا حکم نازل ہوا تھا۔