الفتح الربانی
أبواب تحريم الخمر وحد شاربها— شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُحَارِبِينَ وَقُطَاعِ الطَّرِيْقِ باب: محاربین اور راستوں کو غیر محفوظ کر دینے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 6801
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِي آخِرِهِ ثُمَّ نُبِذُوا فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُواترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عکل قبیلے کے آٹھ افراد رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسلام پر بیعت کی،مدینہ کی سرزمین کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی اور ان کے جسم بیمار پڑ گئے، جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کی شکایت کی تو … پھر اوپر والی حدیث کی مانند بیان کیا … ، البتہ اس کے آخر میں ہے: پھر انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا،یہاں تک کہ وہ مرگئے۔