الفتح الربانی
أبواب تحريم الخمر وحد شاربها— شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُحَارِبِينَ وَقُطَاعِ الطَّرِيْقِ باب: محاربین اور راستوں کو غیر محفوظ کر دینے والوں کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ مِنْ عُكْلٍ فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَفَعَلُوا فَصَحُّوا فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاةَهَا وَسَاقُوهَا فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ قَافَةً فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عکل قبیلے کے آٹھ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، لیکن جب انھوں نے مدینہ کی آب و ہوا کو ناموافق پایاتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ صدقہ کی اونٹنیوں کے پاس چلے جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں، انہوں نے ایسے ہی کیا، لیکن جب وہ صحت یاب ہو گئے تو وہ مرتد ہوگئے اور انہوں نے ان کے چرواہوں کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو ان کی تلاش میں بھیجا اور وہ ان کو تلاش کر کے لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے اور انہیں داغا نہیں،یہاں تک کہ وہ مر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلاخیں بھی پھیری تھیں۔