الفتح الربانی
أبواب تحريم الخمر وحد شاربها— شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب
بَابُ هَلْ يَنْبُتُ الْحَدُّ عَلَى مَنْ وُجِدَ مِنْهُ سَكَرٌ أَوْرِيحٌ ولم يعترف؟ باب: جس آدمی سے شراب کا نشہ یا اس کی بو محسوس کی جا رہی ہو، کیا اس پر حکم ثابت ہو جائے گی، اگرچہ وہ اعتراف نہ کرے؟
حدیث نمبر: 6796
عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَرَأَ سُورَةَ يُوسُفَ بِحِمْصَ فَقَالَ رَجُلٌ مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ فَدَنَا مِنْهُ عَبْدُ اللَّهِ فَوَجَدَ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ فَقَالَ أَتُكَذِّبُ بِالْحَقِّ وَتَشْرَبُ الرِّجْسَ لَا أَدَعُكَ حَتَّى أَجْلِدَكَ حَدًّا قَالَ فَضَرَبَهُ الْحَدَّ وَقَالَ وَاللَّهِ لَهَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حمص میں سورۂ یوسف پڑھی، ایک آدمی نے کہا: یہ اس طرح نازل نہیں ہوئی، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ جب اس کے قریب ہوئے تو اس سے شراب کی بو محسوس کی، پھر انھوں نے اس سے کہا: کیا تو حق کو جھٹلاتا ہے اور یہ گندی چیز پیتا ہے، میں تجھے حد لگائے بغیر نہیں چھوڑوں گا، پھر انھوں نے اسے حد لگائی اور کہا: اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سورت مجھے اسی طرح پڑھائی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … شرابی کو تین صورتوں میں سزا دی جائے گی: (۱) جب دو عادل گواہ گواہی دے دیں۔
(۲) جب وہ خود اقرار کرے۔
(۳) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہ کو شراب کی حدّ اس بنا پر لگائی کہ ایک آدمی نے کہا: میں نے اس کو شراب پیتے ہوئے دیکھا اور دوسرے نے کہا: میں نے اس کو شراب کی قے کرتے ہوئے دیکھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تک شراب نہ پی ہو، قے کیسے کر سکتا ہے، پھر انھوں نے اس کو حدّ لگائی۔ (صحیح مسلم: ۱۷۰۷)
بہرحال تیسری صورت میں واضح علامت کا ہونا ضروری ہے، جیسے قے، بو وغیرہ، جبکہ یہیقین ہو کہ یہ بو معدے سے آ رہی ہے اور واقعی شراب کی ہے، جیسے تمباکو نوشی کرنے والے کے منہ سے آنے والی بد بو سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہوتا ہے کہ اس نے تمباکو نوشی کی ہے۔
(۲) جب وہ خود اقرار کرے۔
(۳) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہ کو شراب کی حدّ اس بنا پر لگائی کہ ایک آدمی نے کہا: میں نے اس کو شراب پیتے ہوئے دیکھا اور دوسرے نے کہا: میں نے اس کو شراب کی قے کرتے ہوئے دیکھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تک شراب نہ پی ہو، قے کیسے کر سکتا ہے، پھر انھوں نے اس کو حدّ لگائی۔ (صحیح مسلم: ۱۷۰۷)
بہرحال تیسری صورت میں واضح علامت کا ہونا ضروری ہے، جیسے قے، بو وغیرہ، جبکہ یہیقین ہو کہ یہ بو معدے سے آ رہی ہے اور واقعی شراب کی ہے، جیسے تمباکو نوشی کرنے والے کے منہ سے آنے والی بد بو سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہوتا ہے کہ اس نے تمباکو نوشی کی ہے۔