الفتح الربانی
أبواب تحريم الخمر وحد شاربها— شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب
بَابُ هَلْ يَنْبُتُ الْحَدُّ عَلَى مَنْ وُجِدَ مِنْهُ سَكَرٌ أَوْرِيحٌ ولم يعترف؟ باب: جس آدمی سے شراب کا نشہ یا اس کی بو محسوس کی جا رہی ہو، کیا اس پر حکم ثابت ہو جائے گی، اگرچہ وہ اعتراف نہ کرے؟
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقِتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ شَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ فَلَقِيَ يَمِيلُ فِي فَجٍّ فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا حَاذَى بِدَارِ عَبَّاسٍ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى عَبَّاسٍ فَالْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ وَقَالَ قَدْ فَعَلَهَا ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْهُمْ فِيهِ بِشَيْءٍ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کی حد مقرر نہیں فرمائی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے شراب پی اور وہ اس میں اتنا مست تھا کہ ایک گلی میں لڑ کھڑا رہاتھا، اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جایا گیا، جب وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے برابر پہنچا تو وہ ہاتھوں سے نکل کر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوگیا اور ان کے پیچھے سے ان کو چمٹ گیا، جب لوگوں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور فرمایا: کیا واقعتا اس نے ایسا کیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں کوئی حکم نہ دیا۔