الفتح الربانی
أبواب تحريم الخمر وحد شاربها— شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الشَّارِبِ فِي الرَّابِعَةِ وَبَيَانِ نَسْخِهِ باب: چوتھی مرتبہ شرابی کو قتل کرنے اور پھر اس حکم کے منسوخ ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 6794
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ سَكْرَانَ فِي الرَّابِعَةِ فَخَلَّى سَبِيلَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی شراب پیئے تو اسے حد لگاؤ، پھر اگر وہ پیئے تو اسے حد لگاؤ، اگر وہ چوتھی مرتبہ پیئے تو اس کی گردن اڑا دو۔ امام زہری کہتے ہیں کہ رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چوتھی مرتبہ ایک آدمی کو لایا گیا،وہ نشے میں تھا، لیکن آپ نے اسے چھوڑدیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شرابی کو قتل کرنے کی حدّ منسوخ ہو چکی ہے، امام ترمذی نے کہا: شروع میں قتل کی سزا تھی، لیکن پھر اس کو منسوخ کر دیا گیا …۔عام اہل علم کے نزدیکیہی رائے معتبر ہے، ہمارے علم کے مطابق قدیم و جدید اہل علم میں قتل کے منسوخ ہو جانے پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔