الفتح الربانی
أبواب تحريم الخمر وحد شاربها— شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب
بَابُ حَدَ شَارِبِ الْخَمْرِ وَكَمْ يُضْرَبُ ؟ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يُضْرَبُ؟ باب: شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ يَوْمِ الْفَتْحِ وَأَنَا غُلامٌ شَابٌّ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِشَارِبٍ فَأَمَرَهُمْ فَضَرَبُوهُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِعَصًا وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِسَوْطٍ وَحَثَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التُّرابَ۔ سیدنا عبد الرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ والے دن دیکھا ، جبکہ میں نوخیز جوان تھا،آپ لوگوں کے بیچوں بیچ سے آ رہے تھے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے گھر کے متعلق دریافت کر رہے تھے، اسی اثناء میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شرابی کو لایاگیا، آپ نے لوگوں کو حکم دیا اور ان کے ہاتھوں میں جو چیز بھی تھی، انھوں نے اس کو اس سے مارنا شروع کر دیا، کسی نے لاٹھی سے مارا اور کسی نے کوڑے سے مارا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر چلو بھر مٹی پھینکی۔