الفتح الربانی
أبواب تحريم الخمر وحد شاربها— شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب
بَابُ حَدَ شَارِبِ الْخَمْرِ وَكَمْ يُضْرَبُ ؟ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يُضْرَبُ؟ باب: شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
حدیث نمبر: 6781
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالنُّعَيْمَانِ أَوِ ابْنِ النُّعَيْمَانِ وَهُوَ سَكْرَانُ، قَالَ: فَاشْتَدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: فَشَقَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةً شَدِيدَةً) وَأَمَرَ مَنْ فِي الْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ، قَالَ عُقْبَةُ: فَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَضَرَبُوهُ بِالأَيْدِي وَالْجَرِيدِ، فَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نعیمان یا ابن نعمان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، وہ نشے میں مست تھے، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گراں گزری، ایک روایت میں ہے: اس صورتحال سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بڑی مشقت ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر میں موجود افراد کو حکم دیا کہ وہ اس کو ماریں، سیدنا عقبہ کہتے ہیں؟ میں بھی اس کو مارنے والوں میں تھا، ہم نے اس کو ہاتھوں اور کھجور کی ٹہنیوں سے مارا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا نعیمان رضی اللہ عنہ اسلام کے اولین سپوتوں میں سے تھے، یہ بیعت ِ عقبہ اور غزوۂ بدر اور دیگر کئی معرکوں میں شریک ہوئے تھے، یہ خوش طبع انسان تھے، نبی کریم بھی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خوش طبعی سے مسکراتے تھے، ان جیسے عظیم لوگوں کو شراب سے دور رہنا چاہیے تھا، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رنج و ملال زیادہ ہوا۔
اس جگہ اگرچہ شک کے ساتھ ہے کہ نعیمانیا ابن نعیمان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، لیکن صحیح بخاری، کتاب الوکالۃ میں شک کے بغیر ہے کہ نعیمان کو لایا ہے۔ مزید وہاں یہ بھی ہے اس کو لانے والے حدیث کے راوی عقبہ بن حارث خود ہی تھے۔ (عبداللہ رفیق)
اس جگہ اگرچہ شک کے ساتھ ہے کہ نعیمانیا ابن نعیمان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، لیکن صحیح بخاری، کتاب الوکالۃ میں شک کے بغیر ہے کہ نعیمان کو لایا ہے۔ مزید وہاں یہ بھی ہے اس کو لانے والے حدیث کے راوی عقبہ بن حارث خود ہی تھے۔ (عبداللہ رفیق)