الفتح الربانی
أبواب تحريم الخمر وحد شاربها— شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب
بَابُ حَدَ شَارِبِ الْخَمْرِ وَكَمْ يُضْرَبُ ؟ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يُضْرَبُ؟ باب: شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
حدیث نمبر: 6780
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَأْتِي بِالشَّارِبِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ فَنَقُومُ إِلَيْهِ فَنَضْرِبُهُ بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا حَتَّى كَانَ صَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ فِيهَا أَرْبَعِينَ حَتَّى إِذَا عَتَوْا فِيهَا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں ،سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں شرابی کو لاتے اور اس کے قریب کھڑے ہو کر اس کو ہاتھوں، جوتوں اور کپڑوں سے مارتے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے شروع میں شرابی کی حد چالیس کوڑے کر دی گئی، لیکن جب شرابیوں نے سرکشی کی اور انھوں نے فسق اختیار کر لیا تو شرابی کی سزا اسی کوڑے کر دی گئی۔