الفتح الربانی
أبواب تحريم الخمر وحد شاربها— شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب
بَابُ حَدَ شَارِبِ الْخَمْرِ وَكَمْ يُضْرَبُ ؟ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يُضْرَبُ؟ باب: شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
حدیث نمبر: 6775
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اضْرِبُوهُ قَالَ فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَمِنَّا الضَّارِبُ بِنَعْلِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَخْزَاكَ اللَّهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُولُوا هَكَذَا لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ وَلَكِنْ قُولُوا رَحِمَكَ اللَّهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا، اس نے شراب پی ہوئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے مارو۔ پھر ہم میں سے کسی نے اس کو اپنے ہاتھ سے مارا، کسی نے جوتے سے مارا اور کسی نے کپڑے سے مارا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو ایک آدمی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو، بلکہ تم یہ کہو : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے۔
وضاحت:
فوائد: … جس آدمی کو حد لگائی جا رہی ہو، اس کے لیے بد دعا نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس کے حق میں دعا کرنی چاہیے۔