الفتح الربانی
أبواب تحريم الخمر وحد شاربها— شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب
بَابُ حَدَ شَارِبِ الْخَمْرِ وَكَمْ يُضْرَبُ ؟ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يُضْرَبُ؟ باب: شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ وَعْلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ صَلَّى بِالنَّاسِ الصُّبْحَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَزِيدُكُمْ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُجْلَدَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قُمْ يَا حَسَنُ فَاجْلِدْهُ قَالَ وَفِيمَ أَنْتَ وَذَاكَ فَقَالَ عَلِيٌّ بَلْ عَجَزْتَ وَوَهَنْتَ قُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ فَاجْلِدْهُ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ قَالَ أَمْسِكْ ثُمَّ قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ وَضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَعُمَرُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ۔ حضین بن منذر سے روایت ہے کہ ولید بن عقبہ نے لوگوں کو نماز فجر پڑھائی، جب وہ فارغ ہوا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: کیا میں تم کو مزید نماز پڑھاؤں؟ یہ معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش کیا گیا، انھوں نے اس کو کوڑے مارنے کا حکم دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہااے حسن! کھڑے ہو جاؤ اور اس کو کوڑے مارو، انہوں نے کہا: آپ کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم عاجز آ گئے ہو اور کمزور پڑ گئے ہو، پھر انھوں نے کہا: اے عبد اللہ بن جعفر! کھڑے ہو جاؤ اور اس کو کوڑے لگاؤ، پس سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے اس کو کوڑے مارے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شمار کرنا شروع کر دیا۔ جب وہ چالیس تک پہنچ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رک جاؤ۔ پھر کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب پینے کی وجہ سے چالیس کوڑے لگائے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے پورے دور میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے شروع میں چالیس چالیس کوڑے لگائے، پھر سیدنا عمر نے شراب کی سزا اسی (۸۰) کوڑے پورے کر دیئے۔