الفتح الربانی
أبواب تحريم الخمر وحد شاربها— شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب
بَابُ بَعْضٍ مَا جَاءَ فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ وَلَعْنِ شَارِبِهَا وحرمانه مِنْ خَمْرٍ الْآخِرَةِ إِلَّا أَن يَتُوبَ باب: شراب کی حرمت، اس کو پینے والے پر لعنت کرنے اور اس کے آخرت میں شراب سے محروم ہو جانے کا بیانا، الا یہ کہ وہ توبہ کر لے
حدیث نمبر: 6771
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَعَنَ الْخَمْرَ وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَشَارِبَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَسَاقِيهَا وَمُسْتَقِيهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا: اے محمد! بے شک اللہ تعالی نے شراب کے معاملے میں پر لعنت کی ہے: خود شراب پر، اس کو نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر،پینے والے پر،اٹھانے والے پر،جس کی طرف اٹھاکر لے جائی جائے اس پر، فروخت کرنے والے پر، خریدنے والے پر، پلانے والے پر اور پینے کا مطالبہ کرنے والے پر۔
وضاحت:
فوائد: … شراب کے سلسلے میں اصل گنہگار تو شراب پینے والا ہے، اسی کے لیے شراب بنائی جاتی ہے، لیکن اس کی وجہ سے مزید اُن افراد پر لعنت کی گئی ہے، جو متعلقہ آدمی تک شراب پہنچانے میں تعاون کرتے ہیں۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ شرّ اور برائی میں تعاون بھی گناہ کا کام ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ شرّ اور برائی میں تعاون بھی گناہ کا کام ہے۔