الفتح الربانی
أبواب حد السرقة— چور کی حد کے ابواب
بَابُ حَدِ الْقَطْعِ وَغَيْرِهِ هَلْ يُسْتَوْفِي فِي دَارِ الْحَرْبِ أم لا؟ باب: ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
حدیث نمبر: 6769
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاهِدُوا النَّاسَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ وَلَا تُبَالُوا فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی خاطرقریب اور دور والوں سے جہاد کرو اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی ملامت کرنیوالے کی ملامت کی پرواہ نہ کرو اور حضر وسفر میں اللہ تعالیٰ کی حدیں قائم کرو۔
وضاحت:
فوائد: … مسافر اللہ تعالی کی حدود سے مستثنی نہیں ہے، البتہ اس باب کی پہلی حدیث سے معلوم ہوا کہ سفرِ جنگ میں حد کے نفاذ میں تاخیر کی رخصت دی جائے گی۔