الفتح الربانی
أبواب حد السرقة— چور کی حد کے ابواب
بَابُ حَدِ الْقَطْعِ وَغَيْرِهِ هَلْ يُسْتَوْفِي فِي دَارِ الْحَرْبِ أم لا؟ باب: ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
حدیث نمبر: 6768
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كُنْتُ عِنْدَ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ فَأُتِيَ بِمَصْدَرٍ قَدْ سَرَقَ بُخْتِيَّةً فَقَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنِ الْقَطْعِ فِي الْغَزْوِ لَقَطَعْتُكَ فَجَلَدَ ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں سیدنا بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، مصدرکو ان کے پاس لایا گیا، اس نے ایک بختی اونٹ کی چوری کی تھی، سیدنا بسر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غزوے میں ہاتھ کاٹنے سے منع کرتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں نے تیرا ہاتھ کاٹ دینا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سنن نسائی (۴۹۸۲) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تُقْطَعُ الْاَیْدِیْ فِیْ السَّفَرِ۔)) … ’’سفر میں چور کے ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔‘‘ لیکن سفر سے مراد جنگ کا سفر ہے، جیسا کہ اس باب کی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے، جنگ کے سفر میں بڑا مقصود دشمن کی شکست ہے، اس لیے اسی پر توجہ دی جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے موقع پر ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ یہ ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص مشتعل ہو کر دشمنوں کے علاقے میں بھاگ جائے اور ان کے ساتھ مل کر مرتدّ ہو جائے۔ لیکن اس حکم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حد بالکل ساقط کر دی جائے، بلکہ جب سفر سے واپسی ہو گی تو حد لگائی جائے گی، کیونکہ شریعت کی مقررہ حدود ساقط نہیں ہو سکتیں۔