الفتح الربانی
أبواب حد السرقة— چور کی حد کے ابواب
بابُ هَلْ يُقْطَعُ العَبْدُ إِذَا سَرَقَ مِنْ. ا سَرَقَ مِنْ سَيِّدِهِ؟ وَمَا حُكْمُ الْعَبْدِ الْآبِقِ إِذَا سَرَقَ باب: جب غلام، آقا کی چوری کرے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، نیز بھاگے ہوئے غلام کا حکم کیا ہے، جب وہ چوری کرے
حدیث نمبر: 6764
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ فَبِيعُوهُ وَلَوْ بِنَشٍّ يَعْنِي بِنِصْفِ أُوقِيَّةٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام چوری کرے تو اسے فروخت کر دو، اگرچہ نصف اوقیہ کے عوض بیچنا پڑے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔