الفتح الربانی
أبواب حد السرقة— چور کی حد کے ابواب
بَابُ الْقَطْعِ بِالْإِقْرَارِ وَهَلْ يَكْتَفِي فِيهِ بِالْمَرَّةِ وَتَلْقِينِ الْحَدِ وَحَسَمِ الْيَدِ بَعْدَ قَطْعِهَا باب: چور کے اقرار پر ہاتھ کاٹنے، حد کے بارے میں تلقین کرنے اور کاٹنے کے بعد ہاتھ کو داغنے کا بیان، نیز اس چیز کا بیان کہ کیا ایک مرتبہ چوری کا اعتراف کافی ہے
عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ فَاعْتَرَفَ وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ قَالَ بَلَى مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْطَعُوهُ ثُمَّ جِيئُوا بِهِ قَالَ فَقَطَعُوهُ ثُمَّ جَاءُوا بِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ۔ سیدنا ابو امیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، اس نے چوری کا اعتراف تو کیا، لیکن اس کے پاس سامان نہیں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میرا خیال ہے تو نے چوری نہیں کی۔ اس نے کہا: کیوں نہیں، میں نے چوری کی ہے،دو یا تین مرتبہ ایسے ہی کہا گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹ دو اور پھر اس کو میرے پاس لے آؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو کہہ: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ (میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتاہوں)۔ اس نے کہا: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کی توبہ قبول فرما۔
داغنے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ خون رک جائے۔
اگرچہ حدود کفارہ ہیں، لیکن اس موقع پر توبہ و استغفار کا حکم دینے کی وجہ یہ ہے کہ مجرم کے اندر یہ تصور مضبوط ہو جانا چاہئے کہ اس کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے، وہ اس کے اپنے جرم کے بدلے میں ہے، لہذا وہ استغفار اور ندامت کا اظہار کرے، نیز اس عمل سے اس کے اندر حوصلہ بھی پیدا ہو گا اور ذلت اور پریشانی کے اثرات کم ہو جائیں گے۔