الفتح الربانی
أبواب حد السرقة— چور کی حد کے ابواب
بَابُ اعْتِبَارِ الْحَرَرُ وَمَا جَاءَ فِي الْمُخْتَلِسِ وَالْمُتَهَبِ وَالْخَائِنِ وَجَاحِدِ الْعَارِيَةِ وَمَا لَا قَطعَ فِيهِ باب: چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
حدیث نمبر: 6761
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَتْ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مخزوم قبیلے کی ایک عورت سامان ادھار لیتی تھی اور پھر انکار کر دیتی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔
وضاحت:
فوائد: … بظاہر اس حدیث ِ مبارکہ سے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ عاریۃً لی ہوئی چیز کا انکار کر دینے کی وجہ سے اس عورت کا ہاتھ کاٹا گیا، لیکن جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ ایسے انکار کی وجہ سے تو ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، جبکہ بعض احادیث ِ صحیحہ میں اس امر کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ اس عورت نے چوری کی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوری کی وجہ سے ہاتھ کاٹا تھا، اس حدیث کو اختصار پر محمول کیا جائے گا۔