الفتح الربانی
أبواب حد السرقة— چور کی حد کے ابواب
بَابُ اعْتِبَارِ الْحَرَرُ وَمَا جَاءَ فِي الْمُخْتَلِسِ وَالْمُتَهَبِ وَالْخَائِنِ وَجَاحِدِ الْعَارِيَةِ وَمَا لَا قَطعَ فِيهِ باب: چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
حدیث نمبر: 6760
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى الْمُنْتَهِبِ قَطْعٌ وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً مَشْهُورَةً فَلَيْسَ مِنَّا وَقَالَ لَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ڈاکو پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے اور جس نے واضح طور پر ڈاکہ مارا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خیانت کرنے والے پر بھی ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اصحاب السنن کی روایات میں ((وَلَا الْمُخْتَلِس)) کا اضافہ بھی ہے، اس کے معنی ہیں: غفلت سے فائدہ اٹھا کر چیز کو اچک لینے والا، یعنی ایسے شخص کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
خائن سے مرادوہ شخص ہے کہ جس کے پاس لوگ امانتیں رکھتے ہیں، لیکن وہ ان کو استعمال کر کے ضائع کر دیتا ہے۔
خائن سے مرادوہ شخص ہے کہ جس کے پاس لوگ امانتیں رکھتے ہیں، لیکن وہ ان کو استعمال کر کے ضائع کر دیتا ہے۔