الفتح الربانی
أبواب حد السرقة— چور کی حد کے ابواب
بابُ لَعْنِ السَّارِقِ وَفِي كَمْ تُقْطَعُ يَدُهُ باب: چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا
عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيِّ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَهُوَ عَامِلٌ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ أُتِيتُ بِسَارِقٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ خَالَتِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنْ لَا تَعْجَلْ فِي أَمْرِ هَذَا الرَّجُلِ حَتَّى آتِيَكَ فَأُخْبِرَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي أَمْرِ السَّارِقِ قَالَ فَأَتَتْنِي وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْطَعُوا فِي رُبْعِ الدِّينَارِ وَلَا تَقْطَعُوا فِيمَا هُوَ أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَكَانَ رُبْعُ الدِّينَارِ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ فَالدِّينَارُ اثْنَا عَشَرَ دِرْهَمًا قَالَ وَكَانَتْ سَرِقَتُهُ دُونَ رُبْعِ الدِّينَارِ فَلَمْ أَقْطَعْهُ۔ یحییٰ بن یحییٰ غسانی کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا اور مدینہ کے عامل ابوبکر بن محمد کو ملا، انھوں نے کہا: میرے پاس ایک چور لایا گیا اورمیری خالہ عمرہ بنت عبد الرحمن نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اس آدمی کے بارے میں جلدی فیصلہ نہ کرنا، مجھے آلینے دو تاکہ میں تجھے وہ حدیث بتا سکوں جو میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے چور کے بارے میں سنی ہے، پس وہ میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے چور کے بارے میں سنا ، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چور کا ہاتھ دینار کے چوتھے حصہ میں کاٹو، اس سے کم میں نہ کاٹو۔ ان دنوں میں دینار کا چوتھا حصہ تین درہم کے برابر ہوتا تھا، تو دینار بارہ درہم کا ہوا، اس چور کی چوری دینار کے چوتھے حصہ سے کم تھی ، لہذا میں نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
دینار کا چوتھائی حصہ: 1ماشہ، 1رتی،یعنی: تقریباً 1.093گرام
یاد رہے کہ دینار سونے کے درج بالا وزن کا نام ہے، بہتر ہے کہ 4ماشہ، 4 رتی سونے کے روپے بنا لیے جائیں، پھر جواب کو 4 پر تقسیم کر لیا جائے، چوتھائی دینار کی قیمت معلوم ہو جائے گی، پھر جو چیز چوری کی گئی ہو، اس کی قیمت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا کہ چور کا ہاتھ کاٹا جائے یا نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چوتھائی دینار کی قیمت، تین درہم چاندی کی قیمت کے برابر ہوتی تھی، لیکن اس زمانے میں چوتھائی دینار کی قیمت تین درہم سے کافی زیادہ ہے، اور وہ اس طرح کہ اگر ایک تولے سونے کی قیمت (۰۰۰،۵۰) روپے ہو تو چوتھائی دینار کی قیمت پانچ ہزار روپے سے کچھ کم بنتی ہے، جبکہ تین درہم چاندی کی قیمت ایک ہزار روپے سے بھی کم بنتی ہے۔