الفتح الربانی
أبواب حد السرقة— چور کی حد کے ابواب
بابُ لَعْنِ السَّارِقِ وَفِي كَمْ تُقْطَعُ يَدُهُ باب: چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا
حدیث نمبر: 6752
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے، وہ انڈا چوری کرتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، وہ رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر ’’اَلْبَیْضَۃ‘‘ کا معنی انڈا ہو تو انڈے اور رسی کا ذکر کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے کیا گیا ہے، مراد یہ ہے کہ آدمی معمولی چیز کے عوض اپنے ہاتھ سے بھی محروم ہو جاتا ہے اور عام معاشرے میں رسوائی کی علامت بھی بن جاتا ہے، الا من رحم ربی۔
چور اور چوری کی قباحت و شناعت بیان کی جا رہی ہے، کتنی مقدار کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا؟ اس کی وضاحت اگلی احادیث میں آ رہی ہے۔
اللہ تعالی کی رحمت سے دوری کو لعنت کہتے ہیں۔ غیر معین نافرمانوں پر لعنت کی جا سکتی ہے، کیونکہیہ جنس پر لعنت ہوتی ہے، نہ کہ خاص فرد پر، جیسے ارشادِ باری تعالی ہے: {الا لعنۃ اللہ علی الظالمین} … ’’خبردار! ظالموں پر اللہ تعالی کی لعنت ہو۔‘‘ اسی طرح ان لوگوں پر لعنت کرنا درست ہے، جن کے بارے میں انبیائے کرام کی تصدیق کی وجہ سے یہیقین ہو چکا ہے کہ وہ جہنمی ہیں، جیسے ابو جہل، ابو لہب، فرعون و غیرہ۔
جن احادیث میں لعنت کرنے سے منع کیا گیا ہے، ان سے مراد یہ ہے کہ کسی خاص فرد پر لعنت نہ کی جائے۔
چور اور چوری کی قباحت و شناعت بیان کی جا رہی ہے، کتنی مقدار کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا؟ اس کی وضاحت اگلی احادیث میں آ رہی ہے۔
اللہ تعالی کی رحمت سے دوری کو لعنت کہتے ہیں۔ غیر معین نافرمانوں پر لعنت کی جا سکتی ہے، کیونکہیہ جنس پر لعنت ہوتی ہے، نہ کہ خاص فرد پر، جیسے ارشادِ باری تعالی ہے: {الا لعنۃ اللہ علی الظالمین} … ’’خبردار! ظالموں پر اللہ تعالی کی لعنت ہو۔‘‘ اسی طرح ان لوگوں پر لعنت کرنا درست ہے، جن کے بارے میں انبیائے کرام کی تصدیق کی وجہ سے یہیقین ہو چکا ہے کہ وہ جہنمی ہیں، جیسے ابو جہل، ابو لہب، فرعون و غیرہ۔
جن احادیث میں لعنت کرنے سے منع کیا گیا ہے، ان سے مراد یہ ہے کہ کسی خاص فرد پر لعنت نہ کی جائے۔