الفتح الربانی
أبواب حد القذف— تہمت کی حد کے ابواب
بَابٌ فِي أَنَّ حَدَّ الْقَذَفِ ثَمَانُونَ جَلَدَةٌ باب: تہمت کی حد اسی کوڑے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6751
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ وَتَلَا الْقُرْآنَ فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب میرا عذر نازل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے، اس چیز کا ذکر کیا، پھر قرآن پاک کی متعلقہ آیات کی تلاوت کی، پھر جب منبر سے نیچے اترے تودو مردوں اور ایک عورت کو حد لگانے کا حکم دیا، پس ان پر حد لگا دی گئی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ ایک طویل قصہ ہے، اس کا بیان سورۂ نور کی بارہ تیرہ آیات میںموجود ہے، یہ واقعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عزت و عظمت پر دلالت کرتا ہے، جن تین افراد کو تہمت کی سزا میں کوڑے لگے تھے، وہ مسلمان تھے، ان کے نام یہ ہیں: سیدنا مسطح، سیدنا حسان بن ثابت اور سیدہ حمنہ بنت جحش e، امام حاکم نے ’’الاکلیل‘‘ میں ایک روایت بیان کی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن لوگوں کو تہمت کی حد لگائی تھی، ان میں رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی بھی تھا۔