الفتح الربانی
أبواب حد القذف— تہمت کی حد کے ابواب
بَابٌ فِي أَنَّ حَدَّ الْقَذَفِ ثَمَانُونَ جَلَدَةٌ باب: تہمت کی حد اسی کوڑے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6750
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَلَدِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ: ((أَنَّهُ يَرِثُ أُمَّهُ وَتَرِثُهُ أُمُّهُ، وَمَنْ قَفَاهَا بِهِ جُلِدَ ثَمَانِينَ، وَمَنْ دَعَاهُ وَلَدَ زِنًا جُلِدَ ثَمَانِينَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے لعان کرنے والوں کی اولاد کے بارے میں رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا: یہ اولاد اپنی ماں کی اور اس کی ماں ان کی وارث بنے گی اور جس نے اس خاتون پر تہمت لگائی، اس کو اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں گے اور جس نے ایسی اولاد کو زنا والی اولاد قرار دیا، اس کو بھی اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں تہمت سے مراد عورت پر زنا کی تہمت لگانا ہے۔ لیکنیہ مسئلہ ایسے ہی ہے کہ میاں بیوی جس بچے پر لعان کریں گے، وہ ماں کی طرف منسوب ہو گا اور وہ ماں اور بیٹا ایک دوسرے کے وارث بنیں گے۔