الفتح الربانی
أبواب حد القذف— تہمت کی حد کے ابواب
بَابُ التَّنْفِيرِ مِنَ الْقَذَفِ وَأَنَّهُ مِنَ الْكَبَائِرِ باب: تہمت لگانے سے نفرت دلانے اور اس کے کبیرہ گناہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6748
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((أَيُّمَا رَجُلٍ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ، أَقَامَ عَلَيْهِ الْحَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی توبہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے غلام پر تہمت لگائی، جبکہ وہ اس تہمت سے بری ہو، تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس پر حد قائم کرے گا، الّا یہ کہ وہ اسی طرح ہو، جیسے اس کے آقا نے اس کے بارے میں کہاہو۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالی کا دربار کامل عدل و انصاف پر مشتمل ہو گا۔