الفتح الربانی
أبواب حد القذف— تہمت کی حد کے ابواب
بَابُ التَّنْفِيرِ مِنَ الْقَذَفِ وَأَنَّهُ مِنَ الْكَبَائِرِ باب: تہمت لگانے سے نفرت دلانے اور اس کے کبیرہ گناہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6747
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَمْسٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِنْهُنَّ: ((وَمَنْ قَفَا مُؤْمِنًا أَوْ مُؤْمِنَةً حَبَسَهُ اللَّهُ فِي رَدْغَةِ الْخَبَالِ، عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے کہا:کیا میں تمہیں وہ پانچ باتیں بتا نہ دوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہیں؟ پھر انھوں نے ان کا ذکر کیا، ان میں ایک بات یہ تھی: جو کسی مؤمن مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگاتا ہے، اللہ تعالی اس کو رَدْغَۃ الخَبَال یعنی جہنمیوں کی پیپ میں ٹھہرائے گا۔