حدیث نمبر: 6620
عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ عَنْ رَجُلٍ كَانَ قَدِيمًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ كَانَ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ رَجُلٌ يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبْ لِي كِتَابًا أَنْ لَا أُوَاخَذَ بِجَرِيرَةِ غَيْرِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ ذَلِكَ لَكَ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد ِ خلافت میں ایک آدمی نے اپنے باپ سے روایت کی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے لئے ایک تحریر لکھوادیں کہ مجھے غیر کے جرم میں نہ پکڑا جائے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرا حق بھی ہے اور ہر مسلمان کا بھی ہے (کہ کسی کو کسی کے جرم میں نہیں پکڑا جائے گا)۔

وضاحت:
فوائد: … دورِ جاہلیت میں باپ بیٹا تو ایک طرف، پورے قبیلے کے افراد کو ایک دوسرے کے جرم کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا، قبیلے کے کسی شخص نے قتل کیا ہوتا تو قبیلے کے کسی بھی شخص کو پکڑ کر قتل کر دیا جاتا اور دعوی کر دیا جاتا کہ ہم نے قصاص لے لیا ہے، اسلام نے اس بد رسم کو نہ صرف ختم کیا، بلکہ یہ اعلان کیا کہ گنہگار وہی ہے، جس نے جرم کیا، سو سزا بھی اسے ہی دی جائے گی، کسی اور کو نہیں۔ لیکن بڑا افسوس ہے کہ اسلام کی ان واضح تعلیمات کے باوجود اہل اسلام نے اپنی جہالت کی بنا پر پھر سے جاہلیت والے رسم و رواج کو اپنا لیا ہے اور ایک قاتل کے قتل کی وجہ سے دو خاندانوں میں ایسی دشمنی کا آغاز ہو جاتا ہے، جو دونوں خاندانوں کے اجڑ جانے اور کئی افراد کے قتل ہو جانے کا سبب بنتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الدية / حدیث: 6620
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16033»