حدیث نمبر: 6618
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَالَ أَبِي هَلْ تَدْرِي مَنْ هَذَا قُلْتُ لَا قَالَ هَذَا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ وَكُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَا يُشْبِهُ النَّاسَ فَإِذَا بَشَرٌ ذُو وَفْرَةٍ وَبِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي ثُمَّ جَلَسْنَا فَتَحَدَّثَنَا سَاعَةً ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي ابْنُكَ هَذَا قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ حَقًّا قَالَ لَأَشْهَدُ بِهِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ضَاحِكًا فِي تَثْبِيتِ شَبَهِي بِأَبِي وَمِنْ حَلْفِ أَبِي عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الإسراء 15] الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے ابو جان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے ابا جان نے کہا: ابو رمثہ ! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جانتا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: یہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پس میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میرا خیال تھا کہ آپ کی ذات گرامی کی عام انسانوں سے الگ تھلگ حیثیت ہوگی، مگر آپ ایک انسان تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کانوں تک آ رہے تھے، بالوں پر مہندی کے نشان تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبز رنگ کی دو چادریں پہن رکھی تھیں، میرے ابونے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کیا اور ہم بیٹھ گئے، آپ نے کچھ دیر تک ہم سے باتیں کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میرے ابا جان نے کہا: جی ہاں،کعبہ کے رب کی قسم! یہی بات درست ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے، میں اس پر گواہی دیتا ہوں۔ یہ ساری باتیں سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھل کر مسکرا پڑے، کیونکہ میری اپنے باپ کے ساتھ مشابہت بالکل واضح تھی، لیکن اس کے باوجود وہ قسم اٹھا رہے تھے، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! یہ تیرے حق میں جرم نہیں کرے گا اور تو اس کے حق میں جرم نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ … الحدیث۔

وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے پہلے حصے سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سید الانبیاء ہونے کے باجودہ سادہ زندگی بسر کرنے اور اپنے آپ کو ظاہری امتیازات اور خصوصیات سے دور رکھنے والے تھے۔ معلوم ہوا کہ سبز لباس جائز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الدية / حدیث: 6618
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4206، 4495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7116»