الفتح الربانی
أبواب الدية— دیت کے ابواب
بَاب مَا جَاءَ فِي الْعَاقِلَةِ وَمَا تَحْمِلُهُ باب: عاقلہ اور دیت کی ذمہ داری اٹھانے والوں کا بیان
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ضَرَّتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَفِيمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ أَتُغَرِّمُنِي مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسَجْعَ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ وَلِمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو سوکنیں آپس میں لڑ پڑیں ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمہ کی لکڑی دے ماری اور اسے قتل کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قاتلہ کے خاندان کو دیت ادا کرنے کا حکم فرمایا: اور جو مقتولہ کے پیٹ کا بچہ فوت ہوا تھا اس کے عوض لونڈی یا غلام کا فیصلہ دیا۔ ایک دیہاتی نے کہا : کیا آپ مجھے اس بچے کی چٹی ڈال رہے ہیں جس نے نہ کچھ کھایا اور نہ پیا اور نہ آواز نکالی اور نہ ہی چیخا۔ اس طرح کا بچہ تو بغیر کسی تاوان ہونا چاہئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا بدؤوں کی طرح یہ قافیہ بندی کی جا رہی ہے، (کوئی جو مرضی کہے مگر) اس عورت کے پیٹ میں قتل ہونے والے بچے کی دیت لونڈی یا غلام دینا پڑے گی۔