حدیث نمبر: 6615
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ضَرَّتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَفِيمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ أَتُغَرِّمُنِي مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسَجْعَ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ وَلِمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو سوکنیں آپس میں لڑ پڑیں ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمہ کی لکڑی دے ماری اور اسے قتل کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قاتلہ کے خاندان کو دیت ادا کرنے کا حکم فرمایا: اور جو مقتولہ کے پیٹ کا بچہ فوت ہوا تھا اس کے عوض لونڈی یا غلام کا فیصلہ دیا۔ ایک دیہاتی نے کہا : کیا آپ مجھے اس بچے کی چٹی ڈال رہے ہیں جس نے نہ کچھ کھایا اور نہ پیا اور نہ آواز نکالی اور نہ ہی چیخا۔ اس طرح کا بچہ تو بغیر کسی تاوان ہونا چاہئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا بدؤوں کی طرح یہ قافیہ بندی کی جا رہی ہے، (کوئی جو مرضی کہے مگر) اس عورت کے پیٹ میں قتل ہونے والے بچے کی دیت لونڈی یا غلام دینا پڑے گی۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں قتل کرنے والی عورت ہے، مسئلہ کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے۔ ماں کے پیٹ کا بچہ بھی ایک نفس ہے، لیکن شریعت نے اس کی دیت میں نرمی رکھی ہے، بدّو کی سجع کلامی میں محض قافیہ بندی ہے، اس سے شرعی احکام متاثر نہیں ہوتے۔ یہ لونڈییا غلام پیٹ کے بچے کی دیت ہے، اس کے حقدار بچے کے ورثاء ہوں گے جیسے کسی بھی مقتول کی دیت کے حقدار اس کے وارث بننے والے لوگ ہوتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الدية / حدیث: 6615
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه مسلم: 1682 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18177 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18361»