الفتح الربانی
أبواب الدية— دیت کے ابواب
بَاب مَا جَاءَ فِي الْعَاقِلَةِ وَمَا تَحْمِلُهُ باب: عاقلہ اور دیت کی ذمہ داری اٹھانے والوں کا بیان
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَأَصَابَتْ بَطْنَهَا فَقَتَلَتْهَا وَأَلْقَتْ جَنِينًا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِدِيَتِهِمَا عَلَى الْعَاقِلَةِ وَفِي جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ فَقَالَ قَائِلٌ كَيْفَ يُعْقَلُ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا زَعَمَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا، وہ اس کے پیٹ پر لگا اور وہ خاتون بھی قتل ہو گئی اور اس نے اپنا جنین بھی گرا دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا اس کی دیت اس کے عاقلہ نے ادا کرنا ہو گی اور جنین کی دیت ایک غلام یا ایک لونڈی ہو گی، ایک آدمی نے کہا: جس بچے نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ بولا اور نہ چیخا، اس طرح قتل باطل اور رائیگاں ہو جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کاہنوں اور نجومیوں کا بھائی لگتا ہے۔