الفتح الربانی
أبواب الدية— دیت کے ابواب
بَاب مَا جَاءَ فِي الْعَاقِلَةِ وَمَا تَحْمِلُهُ باب: عاقلہ اور دیت کی ذمہ داری اٹھانے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 6612
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُ ثُمَّ إِنَّهُ كَتَبَ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يُتَوَالَى وَقَالَ رَوْحٌ يَتَوَلَّى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تحریر کروایا کہ قبیلہ کی ہر شاخ پر دیت ادا کرنا واجب ہے، نیز آپ نے یہ بھی لکھوایا کہ کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ بغیر اجازت کے کسی کا سر پرست بنے، روح راوی کے الفاظ یہ ہیں: یہ حلال نہیں ہے کہ ایک مسلمان آدمی کا (آزاد کردہ) غلام اس کی اجازت کے بغیر کسی اور کو سرپرست بنا لے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۶۵۹۳) کے فوائد میںیہ وضاحت کی جا چکی ہے قتل خطا اور قتل شبہ عمد میں دیت کون ادا کرے گا اور کیوں۔ آزاد شدہ غلام اپنی آزادی کی نسبت اپنے آزاد کنندہ کے علاوہ کسی اور کی طرف نہیں کر سکتا، اس حدیث میں ’’اجازت کے بغیر‘‘ کی قید ڈانٹ کے طور پر ہے، ورنہ اجازت لے کر بھی کسی دوسرے کی طرف منسوب نہیں ہوا جا سکتا۔